تعارف
وہ نصاب جو کسی بورڈ پر نہیں
ایک ذمہ دار دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے پورا منصوبہ بیان کرتے ہیں — بورڈ سے بورڈ تک، اور پھر وہ نصاب جو کسی بورڈ پر نہیں۔
۵ منٹ ۱ سیکنڈ
متن
یہ صاف کیا ہوا متن ہے۔ اصل آڈیو ہی سند ہے۔
-
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سب سے پہلے عنوان ہے: عوامی تعلیم و تربیت۔
-
پھر اس کا نصب العین ہے: اقامتِ دین — یعنی دین ماحول میں عملاً زندہ ہو جائے۔ اور اس کے لیے چار ستون ہیں: تعلیم ہے، تربیت ہے، دعوت ہے، اور خدمت ہے۔
-
اس کے بعد اس کے اغراض و مقاصد ہیں اور طریقۂ کار ہے۔ اغراض و مقاصد میں: مسلمانوں کو دین کے ضروری علم سے آراستہ کرنا؛ مسلمانوں کے گھروں میں تعلیم و تربیت کا ماحول بنانا؛ اور مساجد کو عوامی تعلیم کے مراکز بنانا۔ طریقۂ کار یہ ہوگا کہ عوام کے لیے مناسب نصاب تیار ہو، پھر علماء اور پڑھے لکھے لوگوں میں سے ٹیم کی تیاری ہو، اور پھر ان کورسز کا انعقاد ہو — جگہ جگہ یہ قائم کیے جائیں۔
-
اس کے بعد اس کا ترانہ ہے — وہ نظم: «یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے، جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے۔» پوری نظم ہے۔
-
پھر وہ دعا ہے، حدیث کی — «اللّٰهم إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك» — پوری دعا۔
-
اس کے بعد ہمارا نصاب ہے۔
-
وہ یہ ہے کہ پہلے ایمانیات ہیں۔ چھ کلمے یاد ہو جائیں، ان کا ترجمہ بھی یاد ہو جائے، ان کے مواقع بھی یاد ہوں کہ کون سا کلمہ کس موقع پر ہے، اور ان کے فضائل بھی یاد ہو جائیں کہ اس کا کیا فائدہ ہے۔ اور پھر ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل بھی الفاظ اور معنی کے ساتھ یاد کرا دیں۔ یہ ایمانیات کا کورس مکمل ہو گیا۔
-
اس کے بعد ہم طہارت پر چلے جاتے ہیں، اس لیے کہ اسلام کا پہلا باب طہارت ہے۔ وضو ہے، غسل ہے، تیمم ہے؛ اس کا طریقہ ہے، اس کے آداب ہیں، دعائیں ہیں۔ یہ ان شاء اللہ العزیز عملی طور پر سکھانا ہے اور سیکھنا ہے۔
-
اس کے بعد ہم اذان اور تکبیر پر چلے جاتے ہیں، اس لیے کہ یہ دعوتِ تامّہ ہے۔ اذان کے کلمات ہیں، تکبیر کے کلمات ہیں، اور ان کا ترجمہ ہے۔
-
اور اس کے بعد پھر ہم نماز پر چلے جاتے ہیں — تکبیرِ تحریمہ سے «السلام علیکم ورحمۃ اللہ» تک۔ نماز کے کلمات: عربی الفاظ اور اردو ترجمہ، اور اس کے ارکان، عملی طور پر۔
-
اور پھر اس کے بعد، جب نماز پوری ہو جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چوبیس گھنٹے کی زندگی — حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چوبیس گھنٹے کی زندگی کیسے گزرتی تھی، صبح سے رات تک۔ اس میں دعائیں ہیں اور آداب ہیں۔ یہ ایک فکسڈ فریم ہے، تو ہر مسلمان کو اس میں فٹ ہونا چاہیے۔
-
اس کے بعد قرآن سے تعلق ہے۔ مسنون تلاوت وہ تلاوت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ کیا کرتے تھے۔ اس میں سورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرہ کی دس آیات، سورۃ آلِ عمران کی تین آیات، سورۃ التوبہ کی آخری آیت کا کچھ حصہ، سورۃ الکہف کی دس آیات، پھر سورۃ يٰسٓ، اور پھر آخر میں سورۃ الحشر کی تین آیتیں — اس سے پہلے «أعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» پڑھ کر۔ اور پھر چاروں قل ہیں۔ اور مغرب کے بعد سورۃ الواقعہ ہے، عشاء کے بعد سورۃ المُلک ہے۔ یہ مسنون تلاوت ہے۔ مسلمان کی زندگی میں روزانہ کی بنیاد پر قرآن سے تعلق ہونا چاہیے۔
-
تو ان شاء اللہ جب یہ پوری طرح تیار ہو جائے تو اس میں ہم مزید اضافہ کریں گے۔ اس کے لیے افراد کا سلسلہ جاری ہے۔ مدرسہ اور جامعہ کے طلبہ میں سے تقریباً دس افراد بن چکے ہیں، اور ہماری مسجد الصدیق میں بھی جو ہمارے طلبہ ہیں، ان میں یہ سلسلہ جاری ہے — افراد بنا کر عام معاشرے میں اس کی دعوت چلانا، اس کا ماحول بنانا، اور ان چیزوں کا سیکھنا آسان بنانا۔ یہ ان شاء اللہ ہمارا مشن ہے۔
-
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال فرما لے، اور ہماری زندگی بامقصد اور قیمتی ہو۔ وصلی اللہ علیٰ نبینا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔