دعاء تعلیم و تربیت
قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی تکلیف یا پریشانی پہنچے اور وہ ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے، اللہ تعالیٰ اُس کی پریشانی اور تکلیف ختم کر کے اُس کی جگہ خوشی نصیب فرما دیں گے۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس دعا کو سیکھ لیں؟ فرمایا: کیوں نہیں، جو شخص بھی اس دعا کو سنے، اُسے چاہیے کہ اسے سیکھ لے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ · مسندِ احمد، ج۲، حدیث ۳۷۱۲
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ اَمَتِكَ
اے اللہ! بیشک میں آپ کا بندہ ہوں، اور آپ کے بندے کا بیٹا ہوں، اور آپ کی بندی کا بیٹا ہوں
نَاصِيَتِىْ بِيَدِكَ
میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے
مَاضٍ فِىَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِىَّ قَضَاؤُكَ
میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل و انصاف والا ہے
اَسْئَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ
میں آپ کو آپ کے ہر اُس نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جو آپ نے اپنے لیے خود تجویز کیا
اَوْ اَنْزَلْتَهٗ فِىْ كِتَابِكَ
یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا
اَوْ عَلَّمْتَهٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ
یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا
اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِهٖ فِىْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ
یا اپنے پاس علمِ غیب میں محفوظ رکھا
اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِيْعَ قَلْبِىْ، وَنُوْرَ صَدْرِىْ
یہ کہ قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے، اور میرے سینے کا نور بنا دے
وَجَلَاۤءَ حُزْنِىْ، وَذَهَابَ هَمِّىْ
اور غم میں روشنی اور پریشانی دُور کرنے کا ذریعہ بنا دے